سلمان احمد شیخ
کچھ لوگوں کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ قربانی وسائل کا ضیاع ہے اور اس کے برعکس اگر غریبوں کی مدد کی جاۓ تو وہ وسائل کا اچھا استعمال ہے۔ اس تحریر میں صرف معاشی نقطہ نظر سے قربانی کی معیشت اور اس کے معاشی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ طوالت سے بچنے کے لیے صرف چیدہ چیدہ دس نکات لکھے گۓ ہیں جب کہ اس کے کئی اور معاشی پہلو بھی ہیں۔
قربانی کا گوشت یا تو خود کھایا جاتا ہے، رشتہ داروں کو دیا جاتا ہے یا غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جانور کا ہر حصہ جو کھایا جاسکتا ہے، وہ کسی نہ کسی کی خوراک بنتا ہے، ضائع نہیں ہوتا۔
کھالوں کو فلاحی اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جو اسے چمڑے کی مصنوعات بنانے والوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس سے فلاحی اداروں کو جو رقم حاصل ہوتی ہے, اس سے وہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ چمڑے کی مصنوعات بنانے والوں کو ان کھالوں سے اپنی مصنوعات بنانے کے لیے خام مال دستیاب ہوتا ہے۔ اس سے ان کی پیداواری سرگرمی اور اور اس سے وابستہ لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔
قربانی کے دنوں میں گوشت بنانے والے ان حضرات کو روزگار ملتا ہے۔ قصائی، قیمہ بنانے والے، بھنائی کرنے والے، گوشت پکانے والے جن سے باربی کیو، کڑھائی سالن، بریانی یا ہنٹر بیف بنوایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صفائی کرنے والوں کو بھی جزوقتی روزگار ملتا ہے۔ جن کھانے سے وابستہ شیفس اور ریستورانوں کو یہ آرڈر ملتے ہیں, اس سے انہیں روزگار ملتا ہے۔
اس کے علاوہ چارہ فروخت کرنے والوں اور اس کو مارکیٹ تک پہنچانے والے ٹرانسپورٹرز کو بھی روزگار ملتا ہے۔ اس سے چارہ اگانے والوں کو بھی روزگار ملتا ہے۔ جو گاڑی کرایہ پر چلاتے ہیں، انہیں بھی, جو صرف ڈرائیور ہوتے ہیں انہیں بھی۔ منڈیاں شہر سے باہر ہوں تو آنے جانے پر حکومت کو ٹول ٹیکس ملتا ہے۔
گوشت کی تقسیم کے لیے باسکٹ بنانے اور بیچنے والوں اور دیگر پیکیجنگ مٹیریل بنانے والوں کو روزگار ملتا ہے۔ گوشت کو پکانے کے لیے تیل، کئی طرح کےمصالحے، گیس،چولہا، کوئلہ،چاول، آٹا، مرچیں، ٹماٹر، پیاز، آلو اور دیگر سبزیوں کی بھی فروخت بڑھتی ہے اور ان کو اگانے، بنانے اور فروخت کرنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔
جو ادارے وقف قربانی کراتے ہیں, ان کو اکثر حضرات گوشت صدقہ کردیتے ہیں۔ اس سے ان کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مدارس، مساجد میں غریب طلباء کو گوشت مہیا ہوتا ہے۔ بہت سے سمندر پار پاکستانی صرف قربانی کے لیے ترسیلات بھیجتے ہیں۔ اس سے فارن ایکسچینج آتا ہے۔ بہت سے اداروں کو بینکنگ چینل کے ذریعہ رقوم ملتی ہیں, اس سے بینکنگ چینل میں بھی رقم آتی ہے اور انہیں فیس اور گورنمنٹ کو ٹیکس ملتا ہے۔
جانور کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔ اس میں شامل پک اپ, ٹرک اور چھوٹے جانور جیسے بکری یا دنبہ کو منتقل کرنے میں رکشہ والوں کو روزگار ملتا ہے۔ گوشت بنانے میں جو اوزار، اوزان، چوپر مشینیں اور برتن استعمال ہوتے ہیں ان کی مانگ بڑھتی ہے اور انہیں مہیا کرنے والوں اور ان کو رپئیر کرنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔
جانور کو آرام سے رکھنے کے لیے جو بجری, ٹینٹ اور کھانے اور پینے کے حوض خریدے جاتے ہیں، انہیں بنانے اور بیچنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔
جانور کی حفاظت کے لیے رسی اور گھنٹی خریدی جاتی ہے۔ ان کو بنانے اور بیچنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔ جانور کی تزئین کے لیے جو چیزیں خریدی جاتی ہیں انہیں بنانے اور بیچنے والوں کو روزگار ملتا ہے۔
منڈی لگانے والوں کو داخلہ فیس اور ہر جانور کی فروخت فیس ملتی ہے۔ جانور کو رکھنے کے لیے جگہ فراہم کرنے والوں کو بھی فی جانور فیس ملتی ہے۔ اس حفاظت اور نگرانی پر جو عملہ ہوتا ہے اسے روزگار ملتا ہے۔ جانور کے بیوپاریوں کو روزگار ملتا ہے۔ کاروبار کے لیے جانور مہیا رہیں اس کے لیے لوگ اسی شعبہ سے کل وقتی وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کو چراگاہ میں چرانے کے لیے جو لوگ ہوتے ہیں, ان کو روزگار ملتا ہے۔
نیز لائیو اسٹاک سیکٹر کا پاکستان کی زراعت میں پچاس فی صد سے زیادہ اور ملکی پیداوار میں دس فی صد تک حصہ ہے۔
Categories: Socio-Political Issues
