Socio-Political Issues

مرکزی بینک کی خودمختاری: موجود مواقف کا تجزیہ


سلما ن احمد شیخ

مرکزی بینک کی خود مختاری کے معاملہ پر ماہرین اقتصادیات اور لوگوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں مرکزی بینک کی خودمختاری پرترمیمی بل سینیٹ سے انتہائی کم اکثریت سے منظور ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے پر نہ صرف عوام بلکہ منتخب نمائندے بھی منقسم ہیں۔ اس مختصر مضمون میں ایک آزاد مرکزی بینک کے حق میں اور خلاف میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ لوگ اس مسئلے کے بارے میں باخبر رائے قائم کر سکیں۔

سب سے پہلے، ہم ایک آزاد مرکزی بینک کے حق میں دلائل کا ذکر کرتے ہیں۔

عالمی سطح پربالاتفاق یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ مرکزی بینک آزاد ہو۔ مرکزی بینک کے لیے آزادانہ معروضی تجزیہ اورمعاشی حالات کی درست تفہیم اور تشخیص ضروری ہے۔ اگر مرکزی بینک خودمختار نہیں ہوگا تو وہ بروقت معاشی مشکلات اور بحران کی طرف متوجہ نہیں کرسکے گا۔

مثال کے طور پرجب سی پیک شروع ہوا تو کافی عرصہ تک یہ ہی واضح نہیں تھا کہ آیااس میں آنے والے فنڈز قرض ہیں یا سرمایہ کاری۔ آزاد مرکزی بینک زیادہ شفافیت کو یقینی بنا سکتا ہے، خاص طور پر جب اس کا آزادانہ آڈٹ یعنی جانچ پڑتال کا بھی ایک نظام ہو۔

وزارت خزانہ کے زیر تسلط نظام میں، مرکزی بینک صرف ایک سازگار اور سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ لیکن، پھر اسے سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انتخابی سال سے عین قبل، ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں اپنے قرضوں میں حد سے زیادہ اضافہ کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ جب ان کی حکومت ختم ہو تو اس وقت معیشت میں شرحِ نمو بلند سطح پر ہو۔ لیکن، اس کے نتیجے میں مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اور جلد یا بیک وقت سود کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔

مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ 2005 حکومت کو ضرورت سے زیادہ قرض لینے سے روکنے کا ایک طریقہ تھا، لیکن حکومت نے اپنے قرضے کو جی ڈی پی کے 60 فیصد تک محدود نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ 2005 کا ایکٹ بہت زیادہ خسارے کو بھرنے کے لیے قرض کی تحدید میں موثر ثابت نہیں ہوا۔

مالی خسارہ جسے بھرنے کے لیے مرکزی بینک سے زیادہ قرض لیا جاتا ہے اس کی وجہ سے افراط زر اوربالآخر شرح سود بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس سے نجی شعبے کو قرضوں کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے سرمایہ کاری میں بھی کمی آتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو کئی دفعہ دہرایا جاچکا ہے۔ پچھلے 10 سے 12 سالوں میں مرکزی بینک کے متعدد گورنرز کو تبدیل کیا گیا تھا اگر وہ اس چکر پر اعتراض کرتے ہیں جس کی وجہ سے معیشت کو طویل مدت میں زیادہ بڑے مالیاتی خسارے اور بلند افراطِ زر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں خود مختار مرکزی بینک کے ہونے سے حکومت پر بہتر جانچ پڑتال کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے مالیاتی خسارہ کو بڑھا کر محض قرض سے اپنا کام چلانے سے پرہیز کریگی جس سے نہ دیر پا ترقی ممکن ہوپاتی ہے بلکہ عوام افراطِ زر کے بڑھنے سے مزید پریشان ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر مرکزی بینک اپنی توجہ افراطِ زر کو کنٹرول کرنے پر نہیں رکھے گا تو اسے مسؤل بھی نہیں ٹہرایا جاسکے گا۔ وہ افراطِ زر کے بڑھنے پر یہ عذر دینے میں حق بجانب ہوگا کہ حکومت جب اپنا قرض بڑھائے گی تو اس کا اثر زر کی رسد اور افراطِ ز ر پر آئے گا۔ ایک آزاد خودمختار بینک حکومت کو پابند کرسکتا ہے کہ وہ غیر پیداواری قرض نہ لے مرکزی بینک سے جس کا بوجھ عوام پر آتا ہے افراطِ زر بڑھنے کی وجہ سے۔

اب ہم ایک خودمختار مرکزی بینک کے عدم جواز کے بارے میں دلائل ذکرکرتے ہیں۔

آزاد مرکزی بینک کو بہرحال پارلیمنٹ اورقانون ساز اداروں کو جواب دہ ہونا چاہیے ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بین برنانکے اور ایلن گرین سپین کو بھی سینیٹ کا سامنا کرنا پڑا اور عظیم مالیاتی بحران سے پہلے اور اس کے دوران اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا پڑا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایکٹ ریاستی اداروں سے مرکزی بینک کی جانچ پڑتال اورجوابدہ ٹھہرانے کا حق چھین رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت اور برآمدات بہت مستحکم نہیں۔ اس کی وجہ سے کرنسی میں بہت تیزی سے گراوٹ بھی آجاتی ہے جب درآمدات اور قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کا حجم زیادہ ہو۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے مارکیٹ پر مبنی لچکدار شرح مبادلہ اور شرح سود سے ہمیشہ فائدہ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان جیسی معیشت کو اکثر ترقی کے محرک کی ضرورت رہتی ہے۔ مثال کے طور پرلاک ڈاؤن کے دوران مرکزی بینک نے مختلف آسان اور باسہولت قرضوں کے متبادل طریقے متعارف کرائے۔ یہ خدشہ ہے کہ آئیندہ ایسی اسکیموں کو کم ترجیح دی جائے گی جب ایک آزاد اور خودمختار مرکزی بینک بنیادی طور پر افراطِ زر کے ہدف پرہی توجہ مرکوز کرے گا جیسا کہ ایکٹ میں بیان کیا گیا ہے۔

اب افراطِ زر کو کنٹرول کرنا ایک ایسی پالیسی ہے جو پاکستان جیسے ملک میں غیر موثر رہی ہے۔ یہ خود ایک ایسا پالیسی نظام رہا ہے جس کے ملے جلے نتائج ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسی معیشتوں میں جہاں مالیاتی شمولیت کی کم سطح ہے۔تقریباً %20 لوگوں کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں اور %5 سے کم کے پاس کریڈٹ تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رسمی اور کاغذ کے باہر معیشت کا حجم تقریباً جی ڈی پی کا %30 ہے۔

جب حکومت خود پیٹرول، ڈیزل، گیس،پانی اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے اور درآمدی اشیااور خدمات پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں اضافہ کرتی ہے، تو کس طرح شرحِ سود بڑھانے سے افراطِ زر کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی صرف وہاں کارگر ہوسکتی ہے جہاں لوگ اشیاء کو قرض پر خریدتے ہیں اور شرحِ سود بڑھنے سے وہ اپنی طلب کو کم کردیں گے جسے دیکھ کر سامان فروخت کرنے والے اداروں کو بھی قیمتوں کو کم کرنا پڑے گا۔ مگر جب ایسی اشیاء پر ہی زیادہ خرچ ہوتا ہو جو ضروریاتِ زندگی میں آتی ہیں تو ان کی طلب کم نہیں ہوسکتی۔ یہ دیکھتے ہوئے تو سامان بیچنے والا اپنی لاگت پر آنے والے اضافی خرچ کو بھی صارف پر ڈال دے گا۔ چنانچہ بلند شرحِ سود سے کئی دفعہ افراطِ زر کم ہونے کے اور بڑھ جاتی ہے یا مستحکم رہتی ہے۔ پھر افراطِ زر کو کم کرنا اور چیز ہے اور قیمتوں میں فی الواقع کمی ایک اور چیز ہے۔ افراطِ زر میں کمی سے مراد قیمتوں میں اضافہ کی شرح میں کمی ہے ناں کہ قیمتوں میں فی الواقع کمی۔مگر بلند شرحِ سود سے سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے اور یہ کئی شعبوں میں ترقی کو روک سکتا ہے۔

معاشی ماہرین میں جو کینز کی رائے سے اتفاق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ معاشی بحران میں ایسا نہیں ہے کہ زر میں اضافہ کوئی معاشی کردار ادا نہیں کرے گا۔ پاکستان بھی ان ترقی پذیر معیشتوں میں آتا ہے کہ جس کے پاس افرادی، پیداواری اور قدرتی وسائل پوری طرح استعمال میں نہیں ہیں۔ چنانچہ زر کا پھیلاؤ اگر سرمایہ کاری کی طرف ہو تو اس کے معیشت پر بہتر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مراعاتی پیکجز اور کم پالیسی ریٹ کام کرتے نظر آتے ہیں، خاص طور پر بحران میں۔ بلاشبہ، یہ ہر چیز کا علاج نہیں ہے اور نہ پائیدار ترقی کا ضامن۔ مگر بہر حال، کم پالیسی ریٹ کے تحت معیشت بحال ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ جب آئی ایم ایف کی طرف سے سخت مانیٹری پالیسی کا موقف اختیار کیا گیا تو نہ تو مہنگائی کم ہوئی اور نہ ہی معاشی ترقی کی رفتار برقرار رہ سکی۔

زراعت اورچھوٹی صنعتوں میں سرمایہ فراہم کرنے کے لیے بینکنگ سیکٹر پر پہلے ہی کم دباؤ ہے۔ وہ حکومت کو قرض دینے کے مواقع پر بنیادی طور پر انحصار کرتے ہیں۔ بینکنگ کے زیادہ پھیلاؤ کے باوجود وہ اب بھی بڑے پیمانے پر سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اب اس ایکٹ کے بعد مرکزی بینک دیہی قرضے، زرعی قرضے اور ایس ایم ایز کو قرضے کی حوصلہ افزائی کے لیے کم کردار ادا کرے گا۔ جب حکومت مرکزی بینک سے اپنے لیے قرضوں کا انتظام کرنے پر خود ہی کم کنٹرول رکھتی ہوگی اور اسے بھی فنڈز کے لیے مقابلہ کرنا پڑے گا تو خدشہ ہے کہ کمرشل بینک زراعت اور چھوٹی صنعتوں کو مزید نظر انداز کریں گے اس صورتِ حال میں جب کہ مرکزی بینک بھی اپنی بنیادی ترجیح افراطِ زر کو قابو کرنے پر رکھے گا۔

1 reply »

Questions, Feedback or Comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.